Online Quran >> Chapter 68

Report Error

القلم - Al-Qalam - The Pen


Previous Surah Next Surah
Recitation/Qirat:
Pages 1 2 3 4 5 6 7 All

وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ﴿9﴾

وہ تو تمنا کرتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی اختیار کریں تو وہ بھی نرم پڑجائیں 7


[۶]یعنی راہ پر آنیوالے اور نہ آنیوالے سب اللہ کے علم محیط میں طے شدہ ہیں۔ لہذا دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں کچھ ردو رعایت کی ضرورت نہیں۔ جس کو راہ پر آنا ہو گا آ رہے گا اور جو محروم ازلی ہے وہ کسی لحاظ و مروّت سے ماننے والا نہیں۔ کفّار مکہ حضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ بُت پرستی کی نسبت اپنا سخت رویہ ترک کر دیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں، ہم بھی آپ کے خدا کی تعظیم کرینگے اور آپ کے طوروطریق اور مسلک و مشرب سے متعرض نہ ہونگے۔ ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو "خلق عظیم" پر پیدا کیاگیا ہے۔ نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوڑی سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے سے کام بنتا ہے تو برائے چندے نرم روش اختیار کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔ اُس پر حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیاکہ آپ ان مکذبین کا کہنا نہ مانیے۔ ان کی غرض محض آپ کو ڈھیلا کرنا ہے۔ ایمان لانا اور صداقت کو قبول کرنا نہیں۔ آپ کی بعثت کی اصلی غرض اس صورت میں حاصل نہیں ہوتی۔ آپ تو ہر طرف سے قطع نظر کر کے اپنا فرض ادا کرتے رہئے۔ کسی کو منوا دینے اور راہ پر لے آنے کے آپ ذمہ دار نہیں۔ (تنبیہ) "مداہنت" اور "مدارات" میں بہت باریک فرق ہے۔ اوّل الذکر مذموم ہے اور آخر الذکر محمود۔ فلا تغفل۔

 

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾

اور نہ بات مانیے کسی (جھوٹی) قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی


[۷]یعنی جس کے دل میں خدا کے نام کی عظمت نہیں، جھوٹی قسم کھا لینا ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور چونکہ لوگ اس کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتے۔ اس لئے یقین دلانے کے لئے بار بار قسمیں کھا کر بے قدر اور ذلیل ہوتا ہے۔

 

هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾

جو بہت نکتہ چین، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

 

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾

سخت منع کرنے والا بھلائی سے، حد سے بڑھا ہوا، بڑا بدکار ہے

 

عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾

اکھڑ مزاج ہے، اس کے علاوہ بد اصل ہے 8


[۸]یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور رسوائے عالم بھی ہے حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "کہ یہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے" (تنبیہ) { زَنِیْمٍ } کے معنی بعض سلف کے نزدیک ولدالزنا اور حرامزادے کے ہیں۔ جس کافرکی نسبت یہ آیتیں نازل ہوئیں وہ ایسا ہی تھا۔

 

أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ﴿14﴾

(یہ غرور وسرکشی) اس لیے کہ وہ مالدار اور صاحب اولاد ہے 9


[۹]یعنی ایک شخص اگر دنیا میں طالع مند اور خوش قسمت نظر آتا ہے، مثلًا مال و اولاد وغیرہ رکھتا ہے تو محض اتنی بات سے اس لائق نہیں ہو جاتا کہ اس کی بات مانی جائے۔اصل چیز انسان کے اخلاق و عادات ہیں۔ جس شخص میں شرافت اور خوش اخلاقی نہیں، اللہ والوں کا کام نہیں کہ اسکی ابلہ فریب باتوں کی طرف التفات کریں۔

 

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿15﴾

جب پڑھی جاتی ہیں اس کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے افسانے ہیں


[۱۰]یعنی اللہ کی باتوں کو یہ کہہ کر جھٹلاتا ہے۔

 

سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ ﴿16﴾

ہم بہت جلد اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے 10


[۱۱]کہتے ہیں قریش کا ایک سردار ولید بن مغیرہ تھا اس میں یہ سب اوصاف مجتمع تھےاور ناک پر داغ دینے سے مراد اس کی رسوائی اور رُوسیاہی ہے، شاید دنیا میں حسّی طور پر بھی کوئی داغ پڑا ہو۔ یا آخرت میں پڑیگا۔

 
Pages 1 2 3 4 5 6 7 All
Previous Surah Next Surah




About Us | Join ISLAMogle | Quran Online | Contact ISLAMogle
Online Quran is a project of Search Islam. Islamogle is the first Islamic Search Engine

Page generated in 0.076 seconds.