Online Quran >> Chapter 68

Report Error

القلم - Al-Qalam - The Pen


Previous Surah Next Surah
Recitation/Qirat:
Pages 1 2 3 4 5 6 7 All

وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ﴿9﴾

وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو (ف۸) تو وہ بھی نرم پڑجائیں،

(ف 8) دِین کے معاملہ میں ان کی رعایت کرکے ۔

 

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾

اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا (ف۹) ذلیل

(ف 9) کہ جھوٹی اور باطل باتوں پر قسمیں کھانے میں دلیر ہے مراد اس سے یاولید بن مغیرہ ہے یا اسود بن یَغُوث یا اخنس بن شریق ۔ آگے اس کی صفتوں کا بیان ہوتا ہے ۔

 

هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾

بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا (ف۱۰)

(ف 10) تاکہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالے ۔

 

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾

بھلائی سے بڑا روکنے والا (ف۱۱) حد سے بڑھنے والا گنہگار (ف۱۲)

(ف 11) بخیل نہ خود خرچ کرے ، نہ دوسرے کو نیک کاموں میں خرچ کرنے دے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کے معنی میں یہ فرمایا ہے کہ بھلائی سے روکنے سے مقصود اسلام سے روکنا ہے کیونکہ ولید بن مغیرہ اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں سے کہتا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی اسلام میں داخل ہوا تو میں اسے اپنے مال میں سے کچھ نہ دوں گا ۔
(ف 12) فاجر بدکار ۔

 

عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾

درشت خُو (ف۱۳) اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (ف۱۴)

(ف 13) بد مزاج ، بد زبان ۔
(ف 14) یعنی بدگوہر تو اس سے افعال خبیثہ کا صدور کیا عجب ۔ مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا کہ محمد (مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وسلم) ) نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نوکو تو میں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا اس پر اس کی ماں نے کہا کہ تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مرجائے گا تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے ایک چرواہے کو بلالیا تو اس سے ہے ۔
فائدہ : ولید نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا مجنون ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دس واقعی عیوب ظاہر فرمادیئے اس سے سید عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فضیلت اور شان محبوبیّت معلوم ہوتی ہے ۔

 

أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ﴿14﴾

اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،

 

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿15﴾

جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۵) کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۱۶)

(ف 15) یعنی قرآن مجید ۔
(ف 16) اور اس سے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ جھوٹ ہے اور اس کا یہ کہنا اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اس کو مال اور اولاد دی ۔

 

سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ ﴿16﴾

قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے (ف۱۷)

(ف 17) یعنی اس کا چہرہ بگاڑ دیں گے اور اس کی بد باطنی کی علامت اس کے چہرہ پر نمودار کردیں گے تاکہ اس کے لئے سبب عار ہو آخرت میں تو یہ سب کچھ ہوگا ہی مگر دنیا میں بھی یہ خبر پوری ہو کر رہی اور اس کی ناک دغیلی ہوگئی کہتے ہیں کہ بدر میں اس کی ناک کٹ گئی کَذَا قِیْلَ خَازِن وَمدَارک وَجَلَالَیْنِ وَ اُعْتُرِاضَ عَلَیْہِ بِاَنَّ وَلِیْداً کان من المستھزین الذین ماتوا قبل بدر

 
Pages 1 2 3 4 5 6 7 All
Previous Surah Next Surah




About Us | Join ISLAMogle | Quran Online | Contact ISLAMogle
Online Quran is a project of Search Islam. Islamogle is the first Islamic Search Engine

Page generated in 0.046 seconds.